احمد داؤد کی زندگی

پاکستان کے اولین صنعتکاروں میں سے ایک، احمد داؤد، 1905 میں برطانوی ہند کے علاقے کاٹھیواڑ کے ایک چھوٹے سے قصبے بنٹوا میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد دائود یعقوب ایک تاجر اور بنٹوا خاندان میں ایک معروف شخصیت تھے۔ یہ خاندان اصل میں گاندھی کاسٹ سے تھا ، لیکن ہجرت کر کے پاکستان آنے کے بعد ’داؤدز‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ احمد داؤد کے دادا کا نام یعقوب گاندھی اورپردادا کا نام ابو گاندھی تھا۔

احمد داؤد کا بچپن دوسرے بچوں سے بہت مختلف گزرا۔ چونکہ اس زمانے میں بہت کم بچے اسکول جاتے تھے ، اس لئے احمد دائود بھی تعلیم کی طرف مائل نہیں تھے اور صرف تیسری جماعت تک تعلیم حاصل کر سکے۔ انہوں نے اپنے بھائیوں کے ساتھ بنٹوا کے ایک سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کی جہاں ماہانہ فیس صرف 1 آنا تھی۔ ان کے آباؤ اجداد ایک طویل عرصے سے تاجر تھے اور بالآخر احمد داؤد بھی تجارت میں شامل ہوگئے۔

احمد داؤد اور ان کے بہن بھائیوں کی پرورش مذہبی ماحول میں ہوئی۔ ان کی والدہ ، حنیفہ بائی ، گھر کی خاتون سربراہ تھیں ، اور انھوں نے اپنے بچوں کو مکمل خود مختاری دی۔ بچپن ہی سے  احمد داؤد ایک پرجوش و پر امنگ فطرت کے مالک تھے ۔ وہ محنت پسند تھے تو انہیں اپنے نانا عبدالغنی حاجی نور محمد کے پاس بھیجا گیا تاکہ وہ کام سیکھ سکیں۔ اس وقت ان کی عمر صرف 12 سال تھی۔

عبدالغنی ضلع میسور کے ایک چھوٹے سے علاقے میں روئی کے سوت ، گندم اور اناج کا کاروبار کیا کرتے تھے۔ احمد داؤد نے اپنی نانا کی دکان میں ایک سے دو سال کی مختصر مدت کے لئے کام کیا اور تجارت کی بنیادی تربیت حاصل کی۔ ان کا جنون دیکھ کر ، عبدالغنی نے احمد داؤد کو شموگہ (میسور) میں اپنے بزنس پارٹنر ہاشم حاجی غنی کے پاس بھیج دیا جہاں احمد داؤد نے دکان میں ایک سے دو برس ان تھک محنت کی۔ کچھ عرصے کے بعد ، عبدالغنی کی رضامندی سے ، احمد داؤد کو مزید ذمہ داریاں سونپ کر شموگا سے کینوالی (مدراس)، دکان دوسری شاخ میں منتقل کردیا گیا۔

اپنے والد کی وفات کے بعد ، احمد داؤد نے بمبئی ہجرت کی اور 15 سال کی عمر میں اپنا کاروبار شروع کر دیا۔ اپنے نانا کی نگرانی میں ، احمد داؤد نے تمبکاٹا میں واقع ہنومان بلڈنگ میں ایک دکان کھولی۔ انہوں نے اس کا نام اپنے ، اور اپنے سب سے چھوٹے بھائی سلیمان کے نام پرMESSRS سلیمان احمد رکھا۔

 

داؤد خاندان نے کاروبار سے صنعتکاری کی جانب سفر کا آغاز کرتے ہوئے 1952 میں داؤد کاٹن ملز لمیٹڈ قائم کیا۔ یہ صنعت تیزی سے پھیلی ۔ 1959 میں داؤد خاندان نے بورے والا ٹیکسٹائل ملز خریدا ، جو اپنی ہی جِننگ فیکٹری رکھنے والا کپاس کا ٹیکسٹائل مل تھا ۔ 1969 میں ڈیلن قائم ہوا ، جو نائلان اور مصنوعی سوت کے کپڑے کا کام کرتا تھا۔ ٹیکسٹائل میں ان کا آخری منصوبہ لارنس پور وولن ملز تھا۔ مشرقی پاکستان میں احمد داؤد نے بنگلہ دیش بننے سے قبل تک کارناپھولی پیپر اور کیمیکل مل کو منافع بخش طریقے سے چلایا۔ یہ مل بانس سے کاغذ کو تیار کرنے والی دنیا کی پہلی مل تھی۔ مشرقی پاکستان میں کارناپھولی جوٹ ملز لمیٹڈ کا بھی قیام عمل میں آیا جو دائود خاندان کے زیر انتظام رہا۔ داؤد ہرکولیس کیمیکلز (یوریا کھاد) کے قیام کے بعد ، ٹرانسپاک (بچوں کا کھانا ، ٹوتھ پیسٹ ، دانتوں کا برش اور دیگر سامان) ، داؤد یاماہا (موٹرسائیکل) ، ڈولنس (فرج اور مائکروویو) ، ڈیسکن انجینئرنگ (تعمیراتی) ، اور میجی بسکٹ کے ذریعہ داؤد خاندان نے نئی صنعتوں میں بھی اپنا لوہا منوایا۔

 

احمد داؤد الشفا آئی اسپتال کے بانی ٹرسٹی بھی تھے جس میں ان کی فاؤنڈیشن نے 15 ملین سے بھی زیادہ رقم عطیہ کی۔ انہوں نے 1961 میں داؤد فاؤنڈیشن کی بنیاد بھی رکھی جس کے ذریعے انہوں نے کراچی میں دائود انجینئرنگ کالج قائم کیا۔ ابتدائی دنوں میں  اس کالج میں پڑھائے جانے والے کچھ مضامین پاکستان کے کسی دوسرے یونیورسٹی / کالج میں نہیں پڑھائے جاتے تھے۔ کالج کے سرکاری قبضے کے بعد بھی  انہوں نے ادارے کو غیر معمولی مالی امداد فراہم کی۔ یہ اب بھی تکنیکی تعلیم کا ایک سرکردہ ادارہ ہے۔ فاؤنڈیشن کئی اسکولوں اور دیگر فلاحی اداروں کو چلاتی ہے۔

احمد داؤد میمن برادری کو ساتھ لانے اور برادری کی مدد کرنے والے کلیدی ممبروں میں سے ایک تھے۔ اس برادری نے کراچی کے علاقے کھارادر میں بھی میمن بینک تشکیل دیا۔ سماجی کارکن کی حیثیت سے سیٹھ احمد دائود نے تعلیم اور ساماجی کاموں میں بے پناہ خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے ایک دو سال کیلئے پاکستان سے باہر، امریکہ میں تیل کے شعبے میں ریسرچ کا کام کیا۔ تاہم ، وہ 1977 میں وطن واپس آگئے۔

انہوں نے لمبی اور بھرپور زندگی گزاری اور اپنے کاروبار میں بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے۔ جنوری 2002 میں ان کا 97 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔